Like This Page

Thursday, December 18, 2014

Taliban And Banu Qurayza (Peshawar Attack)

The Quran declares, “Because of that, We decreed upon the Children of Israel that whoever kills a soul unless for a soul or for corruption [done] in the land – it is as if he had slain mankind entirely. And whoever saves one – it is as if he had saved mankind entirely.” (5:32)
Since the appalling murder of nearly 150 innocent souls in a Peshawar school, a Taliban propaganda snippet in Urdu has been circulating on social media. In this, their spokesman Khurasani makes the outrageous claim that Taliban did a repeat of Banu Qurayzah against these children as per the Sunnah: killing of children who had attained puberty and justifying the murder of women! It is indeed an insult to one’s faith to even make a linkage between Prophet Muhammad (PBUH) and the criminal, barbaric conduct of the Taliban. Yet, it is also important to demolish his claim.


Banu Qurayza (بنو قریظہ) VS Saniha e Peshawar

Banu Qurayza  (بنو قریظہ)

یہود مدینہ کا ایک مشہور قبیلہ ، جس نے مدینہ منورہ کے قریب قلعے بنائے تھے۔ رسول پاک صلم نےمدینے کے یہودیوں سے صلح کا معاہدہ کر رکھا تھا۔ مگر یہ مسلسل اس کی خلاف ورزی کرتے تھے۔ جس پر قبیلہ بنو نصیر کو جلاوطن کر دیاگیا۔ اس وقت بنو قریظہ نے تجدید معاہدہ کی مگر جنگ خندق کے موقع پر انھوں نے صرف معاہدہ ہی توڑ دیا بلکہ جس قلعے میں مسلمان عورتیں اور بچے محفوظ تھے اس پر حملہ بھی کر دیا۔ لیکن اپنے ایک آدمی کے مارے جانے پر ہی واپس چلے گئے۔
جنگ خندق کے بعد مسلمانوں نے ان کا محاصرہ کیا جو مہینہ بھر جاری رہا۔ آخر انھوں نے درخواست کی کہ حضرت سعد بن معاذ جو فیصلہ دیں وہ ہمیں منظور ہوگا۔ ان کا خیال تھا کہ سعد قبیلہ بنو اوس ک سردار ہیں اور اس قبیلے سے ہمارے دوستانہ مراسم ہیں۔ اس لیے وہ ہمارے حق میں فیصلہ دیں گے۔ مگر حضرت سعد نےتورات کے حکم کے مطابق فیصلہ کیا کہ لڑنےوالوں کو قتل کر دیاجائے۔ عورتیں اور بچے قید کر لیے جائیں اور سامان کو مال غنیمت قرار دیا جائے۔ اسی فیصلے پر عمل ہوا اوراس قبیلے کا قلع قمع کر دیا گیا۔

سانحہ پشاور:

 پاکستان کے شہر پشاور کے ایک آرمی پبلک سکول میں پیش آیاجہاں دُنیا کی سیاست سے غافل بچے صرف اور صرف اپنے علم کی پیاس بجانے کی غرض سے پہنچے تھے،اُنہیں کیا خبر تھی کہ 16-12-2014کا دن اُن کی زندگی کا آخری دن ہو گا۔ تقریباً سات مسلح افرا د نے سکول میں داخل ہو کر بچوں اور اُساتذہ کو چن چن کر قتل کرنا شروع کر دیا۔ 140 کے قریب بچوں کو قتل اور 150کے قریب بچوں کو زخمی کر دیاگیا۔ان سب بچوں میں سے کسی بچے کے پاس بندوق یا رائفل نہیں تھی۔ اُ ن کے پاس تھا تو اُ ن کی کتابیں یا اُن کے بیگ میں امی کے ہاتھ کا پکا کھانا جو اُن معصوموں کو کھانا نصیب نا ہوا۔ ان بچوں کو کیا پتا تھا کے ان کا سکول ہی ان کا مقتل گاہ بن جائے گا۔ ان سفاک دہشت گردوں نے لیڈی ٹیچرز کے بال کاٹے اور اُنہیں زندہ جلا دیا۔ اُن کے کسی بھی فعل سے یہ کہا جائے کے وہ مسلمان تھے سرا سر غلط بات ہو گی وہ تو انسان کہلانے کے بھی لائق نہیں اور اس واقعے کو بنو قریظہ کے واقعے کے ساتھ استدلال کرنا ایک احمکانہ سوچ ہے اور اس واقعے میں یہودیوں کے شامل ہونے کا ثبوت ہے۔

بنو قریظہ کے واقعے سے استدلال

معلوم نہیں، آرمی اسکول کے بچوں کو قتل کرنے کے حق میں بنو قریظہ کے 
واقعے سے استدلال، ذمہ داروں نے واقعی کیا ہے یا نہیں، لیکن اگر کیا ہے تو یہ افلاس علم کے باوجود تحکم اور خود اعتمادی کے اسی رویے کی ایک مثال ہے جو اس پورے طبقے میں علی العموم دکھائی دیتا ہے۔ بنو قریظہ کے جن مردان جنگی کے قتل کا فیصلہ، خود انھی کے مطالبے پر مقرر کردہ حکم نے کیا اور جو خود تورات کی شریعت کے مطابق تھا، وہ یہودیوں کے کسی مدرسے میں بیٹھ کر تعلیم حاصل نہیں کر رہے تھے جن پر اچانک جا کر دھاوا بول دیا گیا اور کہا گیا کہ زیر ناف بال دیکھ کر بالغوں اور نابالغوں کو الگ کر دیا جائے اور بالغوں کو قتل کر دیا جائے۔ بنو قریظہ نے مسلمانوں کے ساتھ عہد شکنی کی تھی اور ایک نہایت نازک موقع پر مدینہ پر حملہ آور مشرکین کے ساتھ ساز باز کر کے مسلمانوں کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کی سازش کی تھی۔ ان کا باقاعدہ جنگی قوانین کے مطابق محاصرہ کیا گیا اور پھر انھی کے مطالبے پر انھیں اس شرط پر ہتھیار ڈالنے کی اجازت دی گئی کہ ان کے متعلق فیصلہ ان کے اپنے منتخب کردہ حکم سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ سے کروایا جائے گا۔ چونکہ بنو قریظہ کی پوری آبادی اس جنگی جرم میں ملوث تھی، اس لیے ان کے عورتوں اور بچوں کوچھوڑ کر تمام مردان جنگی کو یہ سزا دیا جانا کسی بھی لحاظ سے جنگی اخلاقیات کے منافی نہیں تھا۔ اس سے یہ استدلال کرنا کہ دشمن کے کیمپ سے متعلق غیر مقاتلین پر اور وہ بھی ایک تعلیمی ادارے میں جمع ہونے والے معصوم بچوں پر حملہ آور ہو کر انھیں قتل کر دینا، سنت نبوی کی پیروی ہے، جہالت اور سفاہت کی ایک عبرت ناک مثال ہے۔


سید ابو الاعلیٰ مودودی


اگر کسی جنگ کا مقصد اسلام ہو مگر اس کے طریقے ظالمانہ ہوں،اس میں کسی قسم کی اخلاقی حدود ملحوظ نہ رکھیں جائیں اور لڑنے والوں کا مطمعِ نظر محض دشمن کو تباہ کرنا اور اس کو مبتلائے عذا ب کر کے جذبہ انتقام کی آگ بجھانا ہو تو ایسی جنگ حق کے راستے سے ہٹی ہوئی ہو گی اور اس کے لڑنے والا اصلاً برحق ہونے کے باوجود اپنے آپ کو ظالموں کی صف میں ہی سمجھے۔     (سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ

Banu Qurayza (بنو قریظہ) VS Saniha e Peshawar

Banu Qurayza (بنو قریظہ) VS Saniha e Peshawar

Banu Qurayza  (بنو قریظہ)

یہود مدینہ کا ایک مشہور قبیلہ ، جس نے مدینہ منورہ کے قریب قلعے بنائے تھے۔ رسول پاک صلم نےمدینے کے یہودیوں سے صلح کا معاہدہ کر رکھا تھا۔ مگر یہ مسلسل اس کی خلاف ورزی کرتے تھے۔ جس پر قبیلہ بنو نصیر کو جلاوطن کر دیاگیا۔ اس وقت بنو قریظہ نے تجدید معاہدہ کی مگر جنگ خندق کے موقع پر انھوں نے صرف معاہدہ ہی توڑ دیا بلکہ جس قلعے میں مسلمان عورتیں اور بچے محفوظ تھے اس پر حملہ بھی کر دیا۔ لیکن اپنے ایک آدمی کے مارے جانے پر ہی واپس چلے گئے۔
جنگ خندق کے بعد مسلمانوں نے ان کا محاصرہ کیا جو مہینہ بھر جاری رہا۔ آخر انھوں نے درخواست کی کہ حضرت سعد بن معاذ جو فیصلہ دیں وہ ہمیں منظور ہوگا۔ ان کا خیال تھا کہ سعد قبیلہ بنو اوس ک سردار ہیں اور اس قبیلے سے ہمارے دوستانہ مراسم ہیں۔ اس لیے وہ ہمارے حق میں فیصلہ دیں گے۔ مگر حضرت سعد نےتورات کے حکم کے مطابق فیصلہ کیا کہ لڑنےوالوں کو قتل کر دیاجائے۔ عورتیں اور بچے قید کر لیے جائیں اور سامان کو مال غنیمت قرار دیا جائے۔ اسی فیصلے پر عمل ہوا اوراس قبیلے کا قلع قمع کر دیا گیا۔

سانحہ پشاور:

 پاکستان کے شہر پشاور کے ایک آرمی پبلک سکول میں پیش آیاجہاں دُنیا کی سیاست سے غافل بچے صرف اور صرف اپنے علم کی پیاس بجانے کی غرض سے پہنچے تھے،اُنہیں کیا خبر تھی کہ 16-12-2014کا دن اُن کی زندگی کا آخری دن ہو گا۔ تقریباً سات مسلح افرا د نے سکول میں داخل ہو کر بچوں اور اُساتذہ کو چن چن کر قتل کرنا شروع کر دیا۔ 140 کے قریب بچوں کو قتل اور 150کے قریب بچوں کو زخمی کر دیاگیا۔ان سب بچوں میں سے کسی بچے کے پاس بندوق یا رائفل نہیں تھی۔ اُ ن کے پاس تھا تو اُ ن کی کتابیں یا اُن کے بیگ میں امی کے ہاتھ کا پکا کھانا جو اُن معصوموں کو کھانا نصیب نا ہوا۔ ان بچوں کو کیا پتا تھا کے ان کا سکول ہی ان کا مقتل گاہ بن جائے گا۔ ان سفاک دہشت گردوں نے لیڈی ٹیچرز کے بال کاٹے اور اُنہیں زندہ جلا دیا۔ اُن کے کسی بھی فعل سے یہ کہا جائے کے وہ مسلمان تھے سرا سر غلط بات ہو گی وہ تو انسان کہلانے کے بھی لائق نہیں اور اس واقعے کو بنو قریظہ کے واقعے کے ساتھ استدلال کرنا ایک احمکانہ سوچ ہے اور اس واقعے میں یہودیوں کے شامل ہونے کا ثبوت ہے۔

بنو قریظہ کے واقعے سے استدلال

معلوم نہیں، آرمی اسکول کے بچوں کو قتل کرنے کے حق میں بنو قریظہ کے 
واقعے سے استدلال، ذمہ داروں نے واقعی کیا ہے یا نہیں، لیکن اگر کیا ہے تو یہ افلاس علم کے باوجود تحکم اور خود اعتمادی کے اسی رویے کی ایک مثال ہے جو اس پورے طبقے میں علی العموم دکھائی دیتا ہے۔ بنو قریظہ کے جن مردان جنگی کے قتل کا فیصلہ، خود انھی کے مطالبے پر مقرر کردہ حکم نے کیا اور جو خود تورات کی شریعت کے مطابق تھا، وہ یہودیوں کے کسی مدرسے میں بیٹھ کر تعلیم حاصل نہیں کر رہے تھے جن پر اچانک جا کر دھاوا بول دیا گیا اور کہا گیا کہ زیر ناف بال دیکھ کر بالغوں اور نابالغوں کو الگ کر دیا جائے اور بالغوں کو قتل کر دیا جائے۔ بنو قریظہ نے مسلمانوں کے ساتھ عہد شکنی کی تھی اور ایک نہایت نازک موقع پر مدینہ پر حملہ آور مشرکین کے ساتھ ساز باز کر کے مسلمانوں کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کی سازش کی تھی۔ ان کا باقاعدہ جنگی قوانین کے مطابق محاصرہ کیا گیا اور پھر انھی کے مطالبے پر انھیں اس شرط پر ہتھیار ڈالنے کی اجازت دی گئی کہ ان کے متعلق فیصلہ ان کے اپنے منتخب کردہ حکم سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ سے کروایا جائے گا۔ چونکہ بنو قریظہ کی پوری آبادی اس جنگی جرم میں ملوث تھی، اس لیے ان کے عورتوں اور بچوں کوچھوڑ کر تمام مردان جنگی کو یہ سزا دیا جانا کسی بھی لحاظ سے جنگی اخلاقیات کے منافی نہیں تھا۔ اس سے یہ استدلال کرنا کہ دشمن کے کیمپ سے متعلق غیر مقاتلین پر اور وہ بھی ایک تعلیمی ادارے میں جمع ہونے والے معصوم بچوں پر حملہ آور ہو کر انھیں قتل کر دینا، سنت نبوی کی پیروی ہے، جہالت اور سفاہت کی ایک عبرت ناک مثال ہے۔


سید ابو الاعلیٰ مودودی


اگر کسی جنگ کا مقصد اسلام ہو مگر اس کے طریقے ظالمانہ ہوں،اس میں کسی قسم کی اخلاقی حدود ملحوظ نہ رکھیں جائیں اور لڑنے والوں کا مطمعِ نظر محض دشمن کو تباہ کرنا اور اس کو مبتلائے عذا ب کر کے جذبہ انتقام کی آگ بجھانا ہو تو ایسی جنگ حق کے راستے سے ہٹی ہوئی ہو گی اور اس کے لڑنے والا اصلاً برحق ہونے کے باوجود اپنے آپ کو ظالموں کی صف میں ہی سمجھے۔     (سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ

Comments on FB