Showing posts with label News. Show all posts
Showing posts with label News. Show all posts

Saturday, February 7, 2015

Connect USB Devices With Your Android Phone.


USB Devices

آج کل اسمارٹ فون کافی بڑی اسٹوریج کے ساتھ دستیاب ہیں۔ اس کے علاوہ مائیکرو ایس ڈی کارڈ سلاٹ کی موجودگی نے اسے مزید وسعت دی ہے۔ اگر آپ کے فون میں ایس ڈی کارڈ سلاٹ موجود نہیں ہے تو کوئی فلم دیکھنے کے لیے ضروری نہیں کہ پہلے اسے فون کی میموری میں منتقل کریں۔ کیونکہ ایک بار فلم دیکھنے کے بعد اسپیس خالی کرنے کے لیے اسے ڈیلیٹ ہی کرنا پڑے گا۔

آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ کیا آپ کا فون OTG کی سپورٹ رکھتا ہے۔ اگر فون میں یہ سپورٹ موجود ہے تو صرف ایک کیبل کے ذریعے یو ایس بی فلیش ڈرائیو کو اینڈروئیڈ فون کے ساتھ براہ راست منسلک کیا جا سکتا ہے۔
او ٹی جی (On-The-Go) کیبل آج کل عام دستیاب ہے۔ اکثر آپ نے ٹیبلٹس کے ساتھ یو ایس بی فلیش ڈرائیو کو منسلک کرنے کے لیے اس کیبل کا استعمال دیکھا بھی ہو گا۔ اس کیبل کو فون کے ساتھ استعمال کرنے کے لیے پہلے فون کو چیک کرنا پڑتا ہے کہ آیا اس میں او ٹو جی کی سپورٹ موجود ہے یا نہیں۔ یہ کام بہت ہی آسانی کے ساتھ ایک ایپلی کیشن USB OTG Checker کے سات
ھ کیا جا سکتا ہے۔

OTG Checker
 OTG Storage
یاد رہے کہ تمام اینڈروئیڈ ڈیوائسز ’’او ٹی جی‘‘ کی سپورٹ کی حامل نہیں ہوتیں، چاہے ان میں اینڈروئیڈ کا کوئی بھی ورژن موجود ہو۔
او ٹی جی چیکر ایپلی کیشن اگر تصدیق کر دے کہ ڈیوائس میں اس کی سپورٹ موجود ہے تو آپ مارکیٹ سے یہ کیبل حاصل کر سکتے ہیں جس کی قیمت لگ بھگ ایک یا دو سو روپے ہے۔
اوٹی جی کیبل حاصل کرنے کے بعد اسے فون سے منسلک کریں۔
کیبل کی دوسری طرف یو ایس بی فلیش ڈرائیو لگائیں۔
اب آپ یو ایس بی میں موجود فائلز کو اینڈروئیڈ فائل منیجر کے ذریعے دیکھ سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ فائلز یو ایس بی سے کاپی یا یو ایس بی میں کاپی بھی کی جا سکتی ہیں۔
(یہ تحریر کمپیوٹنگ شمارہ نومبر 2014 میں شائع ہوئی)

Wednesday, December 17, 2014

OPEN LETTER TO TERRORISTS BY ANUPAM KHER


بولی وڈ اداکار انوپم کھیر نے سانحہ پشاور کے بعد دہشت گردوں کے نام ایک کھل خط لکھا ہے، جو کچھ اس طرح ہے۔
ہر مرتبہ جب تم دہشت گردی کرتے ہو میں تھوڑا مر جاتا ہوں۔ سچی بات تو یہ ہے کہ میں بہت عرصہ سے تھوڑا تھوڑا مرتا آ رہا ہوں۔
میں اس وقت بھی مرا جب شہری علاقوں میں بم دھماکے ہوئے، جب عام لوگوں کو یرغمال بنایا گیا، جب ہوائی جہاز ہائی جیک ہوئے، جب اپنا دفاع نہ کر پانے والے کمزور ہلاک ہوئے اور جب نہتے غلاموں کی طرح بیچ دیے گئے۔
لیکن آج، جب تم نے 130 سے زائد بچوں کو پشاور کے ایک اسکول میں سنگدلانہ قتل کیا تو مجھے ڈر ہے کہ میرے اندر مزید مرنے کیلئے کچھ رہا نہیں۔
میں نہیں جانتا کہ اس بربریت کے پیچھے تمارے کیا مقاصد تھے لیکن تم نے مجھے چلتی پھرتی لاش میں بدل دیا۔
تم بچوں کو ذبیح کرنے کا کیا مذہبی جواز پیش کر سکتے ہو؟ کیا معصوم چہروں پر گولیاں برسانے کیلئے بہادری چاہیئے۔ ان بچوں پر جوشیطانی دہشت گردی تو کیا یہ بھی نہیں جانتے کہ تنازعات کیا ہوتے ہیں؟
کوئی بھی مذہب بچوں کو قتل کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دیتا۔
تم وہی درندے ہو جس نے پہلے بھی 9، اکتوبر 2012 میں ملالہ یوسف زئی کی جان لینے کی کوشش کی۔
تم اسے مار نہیں سکے اور وہ بہادر بچی نوبل امن انعام حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔
تم نے آج جس بربریت کا مظاہرہ کیا اس کی لفطوں میں مذمت ممکن نہیں۔
یہ سچ ہے کہ تاریخ بڑے پیمانے پر قتل عام کے واقعات سے بھری پڑی ہے لیکن ان میں سے زیادہ تر سیاسی تحریکوں یا ایسے ہی تنازعات کا شاخسانہ تھے۔
لیکن تم نے آج معصوموں کا جس طرح قتل عام کیا اس کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔
مجھے نہیں پتا کہ تم کس طبقہ یا سوچ سے تعلق رکھتے ہو کیونکہ جانوروں کو بھی صرف بھوک مٹانے یا خوف کی وجہ سے مارا جاتا ہے۔
درحقیقت 'تم شیطان سے بھی بدتر ہو' جنگوں کی تصویریں دیکھ کر میں جذباتی ہو جاتا ہوں لیکن آج ایسا نہیں ہوا۔
آج میں نے اس والد کی تصویر دیکھی جس نے بیٹے کو اسکول بھیجنے سے پہلے خود اپنے ہاتھوں سے اس کے جوتوں کے تسمے باندھے۔
غمزدہ باپ کہہ رہا تھا 'میرے پاس جوتے تو ہیں لیکن بیٹا نہیں رہا'۔
میں اس پر جذباتی نہیں ہوا بلکہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔
آج تمہارے پاگل پن نے ہر جگہ والدین کو ایک کر دیا جو سب مل کر تمھیں کوس رہے ہیں اور وقت ثابت کرے گا کہ ان کا یہ کوسنا ضائع نہیں گیا۔

Tuesday, December 16, 2014

Turkish Lira hits a New record low on emerging market

The lira hit a record low in value of 2.41 lira to the dollar, worse than Monday s record low in value of 2.39 lira to the dollar. It subsequently recovered a little to trade at 2.37 lira to the dollar.


the currency struck a low in value of 3.03 lira to the euro, breaking through the crucial 3.0 barrier before recovering to 2.98 lira to the euro.

Saqoot e Dhaka 16-Dec 1971

Saqoot e Dhaka 16-Dec- 1971 Ka din Pakistan ki history ka Sia Tareen Bab hai. Jub Pakistan ki sarzmeen ko Du Lukht kar dia Gia. Hamaray Azli Dushmnoun Bharat (India), America or Israel ki Makru Sazishoun ne Pakistan ko do Lakht kia. or Mashrki Pakistan Ju k Ab Bangladaish k naam se jana jata hay us ku Pakistan se Juda kar dia. Us waqat Pakistan k COAS Gen. Yahya thay.


Saqoot  e Dhaka


Comments on FB